اپنی اس بھول پر بہت خوش ہوں
میں تجھے بھول کر بہت خوش ہوں
معلیٰ
میں تجھے بھول کر بہت خوش ہوں
بزمِ احباب میں حاصل نہ ہُوا چین مجھے مطمئن دل ہے بہت جب سے الگ بیٹھا ہُوں
وہ سانپ رینگتے ہوئے چنبیلیوں کی اوٹ میں
دل کو اچھا ہے کہ اوقات میں رکھا جائے
رو پڑے اذیت کا حل نکالنے والے
باقی تو سب کھیل تماشا ہوتا ہے
مایوس ہو کے لوٹے ہیں ہر اک دکاں سے ہم
رب عشقِ زلیخا کو یوسف نہ عطا کرتا
قسم وہ میرے سر کی کھا رہی ہے
میں مے کدے کی راہ سے ہو کر نکل گیا ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا