میں آخر آدمی ہوں کوئی لغزش ہو ہی جاتی ہے
مگر اک وصف ہے مجھ میں دل آزاری نہیں کرتا
معلیٰ
مگر اک وصف ہے مجھ میں دل آزاری نہیں کرتا
یہ وہ اڑتے ہوئے بادل ہیں جو سایا نہیں کرتے
اکثر ہوئی مشیت مجبور آدمی سے
حق ، حق ہے تو ہر حال میں اظہار کیا جائے
ہم تو وہ کونپل ہیں جو پتھر سے نکلے ہیں
ہم کو ہمارے دیدۂ بینا سے کیا ملا
اک نسل مطمئن ہے مگر اک اداس ہے
میرے لیے تو بادِ صبا ہو گیا وہ شخص
یہ زباں میری نہیں ہے نہ یہ لہجہ میرا
ہم کو بہارِ صبحِ تمنا سے کیا ملا