میں وہ شاغل ہوں کہ اہل صفا میرے مرید
میں وہ شاغلؔ ہوں کہ ہیں اہلِ صفا میرے مرید صــــوفیانِ بے ریا سے رنـــدِ مے آشـــام تک
معلیٰ
میں وہ شاغلؔ ہوں کہ ہیں اہلِ صفا میرے مرید صــــوفیانِ بے ریا سے رنـــدِ مے آشـــام تک
پھینکی نہ منورؔ نے بزرگوں کی نشانی دستار پرانی ہے مگر باندھے ہوئے ہے
کیا حسیں خواب محبت نے دکھایا تھا ہمیں کھل گئی آنکھ تو تعبیر پہ رونا آیا
تم تو پتھر تھے تمہارے دوست بھی ویسے ہی ہیں
عشق تم سے ہے خسارہ تو خسارہ ہی سہی
یہ بھی حسؔرت! کوئی تدبیرِ سُکوں ہے، کیا خُوب دِلِ بے تاب سے کہتے ہو، اُنھیں یاد نہ کر
کیوں نہ تنویرؔ پھر اظہار کی جرأت کیجے خامشی بھی تو یہاں باعث رسوائی ہے
آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے
سب کی ہے تم کو خبر اپنی خبر کچھ بھی نہیں
میں نے اوروں سے سنا ہے کہ پریشان ہوں میں