اے میرے مصور نہیں یہ میں تو نہیں ہوں
یہ تو نے بنا ڈالی ہے تصویر کوئی اور
معلیٰ
یہ تو نے بنا ڈالی ہے تصویر کوئی اور
دل کے ہر گوشے سے آئی تری آواز مجھے
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
کہ یہ آنسو بہانے کی بھی تو مہلت نہیں دیتے
ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻗﯿﺪ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﮩﺎﮞ ﮬﻮﮞ ﻣُﺤﺴﻦ ﺑﻨﺎ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮬﮯ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﺮﻏﻤﺎﻝ مجھے
میں اوروں کو کیا پرکھوں آئنۂ عالم میں محتاج شناسائی جب اپنا ہی چہرا ہے
تنہا تنہا اشک بہانا ہم کو اچھا لگتا تھا
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
ہَماری لاش پہ ڈُھونڈو نا اُنگلیوں کے نِشاں ہمیں خَبر ہے عزیزو یہ کام کِس کا ہے
یہ شغل سخن وقت گزاری کے لیے ہے