کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ گئی لمحوں میں
ہم یہ سمجھے تھے کہ برسوں کی شناسائی ہے
معلیٰ
ہم یہ سمجھے تھے کہ برسوں کی شناسائی ہے
مر گیا وہ گناہ گار افسوس
ہزاروں سوچ کر مضمون ہم دربار میں آئے
یہ رات آئی کہ سر پہ مرے عذاب آیا
دم بھر بھی ہم اس دم کا بھروسہ نہیں کرتے
ترک کیا میان میں رکھتے نہیں تلواروں کو
اٹھایا اس نے بیڑا قتل کا کچھ دل میں ٹھانا ہے چبانا پان کا بھی خوں بہانے کا بہانہ ہے
ہم اپنے دل میں اسی کو بہار جانتے ہیں
مرا محبوب ایسا نازنیں ہے
ہم بھی کر لیں گے کوئی تم سا پری رو پیدا