تیرے آتے ہی دیکھ راحت جاں
چین ہے صبر ہے قرار ہے آج
معلیٰ
چین ہے صبر ہے قرار ہے آج
یہ پرستان ہے کہ لندن ہے
آرزو جی میں ہو وہ جی نہ رہا
فقرہ ہے یہ رقیب کا اور جھوٹھ بات ہے
دل اپنا مفت دیجیے پھر جی سے جائیے
بھلا میں اور کیا مانگوں خدا سے
دشت میں قیس ملا کوہ میں فرہاد مجھے
دوست جس کے بنو وہ دشمن ہے
مژدۂ وصل آج تار میں ہے
پہروں خیال یار سے باتیں کیا کیے