لبوں پہ جان ہے اک دم کا اور میہماں ہے
مریض عشق و محبت کا تیرے حال یہ ہے
معلیٰ
مریض عشق و محبت کا تیرے حال یہ ہے
ہم ترے آنے سے پہلے مر چلے
کہ صبح ہند میں تھا شام پنچ آب آیا
عدم سے آئے تھے کیا کیا ہم آرزو کرتے
وطن ہے مجھ پے فدا اور میں فدائے وطن
الٰہی میں کہیں ہوں وہ کہیں ہے
لطف صحبت کا گفتگو سے ہے
لوگ کہتے ہیں مارواڑ میں ہے
وعدۂ وصل پر مدار ہے آج
ہے اس میں کیا گناہ تیرے جاں نثارؔ کا