ہجر جاناں میں جی سے جانا ہے
بس یہی موت کا بہانہ ہے
معلیٰ
بس یہی موت کا بہانہ ہے
رسوا رہے خراب رہے در بدر رہے
تار ہاتھ آئے جب نہ دامن سے
وہ ماہ چہرے پہ جب ڈال کر نقاب آیا
بے وفا آپ ہوں خدا نہ کرے
اب کسی شب کی حمایت نہیں کی جائے گی
ہمارے حصے کی قبروں کو بھر دیا گیا ہے
بہت مصروف لوگوں سے محبت ہو گئی ہم کو
جس قدر خواب بڑے ہوتے ہیں
بس ایک شام منانی تھی آفتاب کے ساتھ