تیرے دکھ درد بھلانے کو محبت کر لی
زہر ہی زہر کا تریاق ہوا کرتا ہے
معلیٰ
زہر ہی زہر کا تریاق ہوا کرتا ہے
میں نے دریا سے بات کر لی ہے
سب تماشہ ہیں ، سب تماشائی
تمھارے ہونٹ بنائے ہیں جب غزل نہ ہوئی
ہمارے گاوں کا موسم اداس کر دے گی
عکس چبھتا رہے گا آنکھوں میں
وہیں پہ دیکھا تھا اک روز خواب میں تم کو
اتنا کھایا نہیں نمک تیرا
ذرا سی دیر بڑی دیر سے نہیں آئی
وہ رات ہے ، مجھے خوابوں میں آ کے ملتی ہے