نظر چُرا کے کہا بس یہی مقدر تھا
بچھڑنے والے نے ملبہ خدا پہ ڈال دیا
معلیٰ
بچھڑنے والے نے ملبہ خدا پہ ڈال دیا
!کم نگاہی کی معذرت جاناں عشق تجھ سے بھی خوبصورت ہے
اک کام سے گئے تھے کہ ہر کام سے گئے
سو خواب رکھے ہیں دیوارِ مہربانی پر
ہر شخص لاجواب ہے ہر شخص باکمال
ہمارے شہر میں پھولوں کی اک دکان نہیں
خاک ہوں، خاک ہی میں رہتا ہوں
جبیں چوم کے اُس نے مجھے روانہ کیا اب اس کے بعد تو بنتا ہے عمر بھر کا سفر
ضبط کا مورچہ نہیں چھوڑا
اب ترے خواب دیکھتے ہیں مجھے