کون زندہ ہے کون مر گیا ہے
سانس لینے سے طے نہیں ہوگا
معلیٰ
سانس لینے سے طے نہیں ہوگا
عشق حاصل ہے ، آپ لاحاصل
تعلقات کی سڑکیں نئی نئی ہیں ابھی
ہمارے سامنے رکھی تھی حکمرانی بھی
ابھی کی توبہ نہیں اعتبار کے قابل
درد کم ہو یا زیادہ ہو مگر ہو تو سہی
چلو جانے دو بیتابی میں ایسا ہو ہی جاتا ہے
قاصد کو ادھر بھیج کے دھیان آئے ہے کیا کیا
مشت برابر جیون اندر، جنم جنم کے روگ جانے کیسے جیتے ہوں گے، سُکھ کے اندر لوگ
آسمانوں سے فقط ایک ستارہ ٹُوٹا