بدن سے لپٹے رہے بے زمینوں کے عذاب
تلاشِ رزق کی خاطر جدھر جدھر بھی گئے
معلیٰ
تلاشِ رزق کی خاطر جدھر جدھر بھی گئے
ہم التفاتِ دلِ دوستاں سے دور رہے
گملے کی طرح صحن میں رکھا ہوا کیوں ہوں؟
” میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں ”
جُدا ہوا ہے کوئی جیسے عمر بھر کے لیے
تیری ہنسی بھی جس کا مداوا نہ کر سکے
ہم چھپاتے ہی رہے دل کا ملال
غمِ ہستی ترے خزینے میں
لیکن اتر بھی جاتے ہیں دریا چڑھے ہوئے
مری گمرہی کے ہزاروں مقام