محبت کی حقیقت اے حفیظؔ اس کے سوا کیا ہے
بہت مشکل تھا جینا اس کو آساں کر رہا ہوں میں
معلیٰ
بہت مشکل تھا جینا اس کو آساں کر رہا ہوں میں
کتنا ہی اپنے جسم کو تو خوش لباس رکھ
کہاں میں اور کہاں یہ دولتِ غم
آؤ ہم بھی زخموں کا سلسلہ دکھاتے ہیں
کیسے کہوں سورج کو نکلتے نہیں دیکھا
تم بھی ٹوٹ جاؤ گے تجربہ ہمارا ہے
کسی بزرگ کی سچی دعا سا لگتا ہے
وہ کیا کھیلیں کھلونوں سے جنہیں بچپن نہیں ملتا
دیکھیے تو حصار سے باہر
اور لوگ کہہ رہے ہیں اک جھونپڑا جلا ہے