کوئی سبز منظر دکھائی نہ دے گا
لہو رنگ موسم ہے حدِ نظر تک
معلیٰ
لہو رنگ موسم ہے حدِ نظر تک
وعدوں کا یہ مکان بڑا خوشنما سا ہے
کبھی ہے موم کبھی خشت و سنگ ہے دنیا
بچوں کے سسکنے کی آواز نہیں آتی
اب زندگی کو مجھ سے شکایت نہیں رہی
وہ شخص جس کے ہاتھ میں کوئی ہنر نہیں
ساحرؔ کو زمانے سے شکایت بھی بہت ہے
شاید مری دنیا میں چمکے گا نیا سورج
کھڑکی سے تو بھی گھر میں مرے آ رہی ہے دھوپ
وہ آدمی کا عکس ہے اصل بشر نہیں