دے کے خوشی خریدتا ہوں ان کے رنج و غم
کیا دوستوں کے واسطے کرتا نہیں ہوں میں
معلیٰ
کیا دوستوں کے واسطے کرتا نہیں ہوں میں
دوستوں سے میرے دشمن کہیں بہتر نکلے
بجلی چمک رہی ہے گلستاں سے دور دور
رونے کا سلیقہ مجھے معلوم نہیں ہے
اب دامنِ مژگاں مرا نم ہے بھی ، نہیں بھی
تجھ کو اے گردشِ ایام دعا دیتا ہوں
ہم خون رو چکے ہیں محبت کی راہ میں
ہر قدم پر تری یادوں کے نشاں ملتے ہیں
ہم شبِ ہجر میں تڑپے ہیں سحر ہونے تک
مدّعائے صبا خدا معلوم