شاعری ایازؔ کیا کہنا
اُن کے ہونٹوں کی بات ہوتی ہے
معلیٰ
اُن کے ہونٹوں کی بات ہوتی ہے
ہر تبسم حرام کر دیتے
جیسے پھولوں کے درمیاں ہوں میں
ہم خدائے بہار ہوتے تھے
ہم آج تک ہیں راہ میں رہبر لیے ہوئے
اُبھارا کس لیے دنیا میں تو نے ذوقِ عصیاں کو
اک عمر اسی راہ میں برباد رہیں گے
عزمِ بلند و ہمتِ مردانہ چاہیے
ہائے کیا زندگی ہماری ہے
خزاں گئی ہے فصلِ بہار آئی ہے