گو تُم نہیں ہو پہلوئے عاشق میں آج کل
لیکن تمہاری یاد ہے دل میں بسی ہوئی
معلیٰ
لیکن تمہاری یاد ہے دل میں بسی ہوئی
اللہ نہ دکھائے مجھے لاہور کی گرمی
وہ وقت بھی آئیگا مجھے یاد کرو گے
پھر چمک اٹھیں نہ اس ظالم کو ہنستا دیکھ کر
وہ بھی غریب دل کی طرح بے زبان ہے
ملا نہ نخلِ وفا کا کہیں سراغ مجھے
کوئی تو حرفِ تمنا زبان پر لائے
یہ ان قدموں کی آہٹ ہے یا دل میرا دھڑکتا ہے
مگر پھر بھی دامن ہے خالی کا خالی
خوش خیالی کا برا ہو ، میں یہ سمجھا آپ ہیں