بات دل کی نہ کبھی ختم ہوئی
بات میں بات نکلتی آئی
معلیٰ
بات میں بات نکلتی آئی
لیـکن ، اِسے بازار بنانے سے رہا مَیں
بہشت ، جس میں میسّر ہوں گھر کرائے پر
پھر یوں ہوا ، اک دن تری تصویر جلا کر جلتی ہوئی تصـویر سے باہر نہیں آئے
ہے میرے پاس اداسی کا بند و بست بہُت
ہم کســی اور کے ہوتے تو تمھـارے ہوتے
کہیں میَں وقت سے پہلے بھی جایا کرتا تھا
ہوتا نہیں ہوں نیند سے بیدار خود سے میں
زندہ ہیں گزرے وقت میں، سب مر چکے ہوئے
کیسے لگتے ہیں تجھے چھوڑ کے جاتے ہوئے ہم