نخلِ امید کو یوں سینچ رہا ہے کوئی
دستِ نازک میں محبت کا اثر ہو جیسے
معلیٰ
دستِ نازک میں محبت کا اثر ہو جیسے
وہ غم بھی مرے واسطے سوغات میں آئے
رکھا جہاں قدم ، اُسے صحرا بنا دیا
بیٹھے ہوئے تھے وہ دلِ خانہ خراب میں
وہ حسنِ اتفاق سے منصور ہو گئے
اُس دن سے دوستو بڑے آرام سے رہے
کاٹے ترے بغیر جو غربت میں چار دن
لوگ دیوانہ سمجھتے ہیں گزر جاتے ہیں
صد شکر کہ مجھ پر کوئی الزام نہیں ہے
وہ کون شخص تھا جسے دیکھا تھا خواب میں