غم کو رفیق جان کے اپنا رہا ہوں میں
راس آئے یا نہ آئے یہ قسمت کی بات ہے
معلیٰ
راس آئے یا نہ آئے یہ قسمت کی بات ہے
ایسے بھی کچھ درخت مسافر نواز ہیں
یہ کس منزل میں لے آئیں مجھے گمراہیاں میری
تن ڈھانپوں تو پیٹ ہے خالی ، پیٹ بھروں تو ننگا ہوں
میرا انجام نئے دور کا آغاز بھی ہے
میں نے اسے ہر رنگ میں ہر روپ میں دیکھا
تم بھی دنیا کی نگاہوں سے اتر کر دیکھو
آج کی رات ذرا ذکرِ سحر کر
یارو کسی جانب سے بھی پتھر نہیں آیا
کچھ نہ کچھ رابطہ باہر کی ہوا سے رکھو