بچے بڑے حساس ہوا کرتے ہیں ان پر
ظاہر کبھی غربت کے مفاہیم نہ کرنا
معلیٰ
ظاہر کبھی غربت کے مفاہیم نہ کرنا
خیال یہ ہے کہ عزت سے مر کے دیکھتے ہیں
میداں میں مری گود کے پالے نکل آئے
یارو انہیں کے ہاتھ سے پتھر لگے مجھے
ہزاروں زرنگار آنچل تصور میں جھلکتے ہیں
ورنہ یہ گل کدہ بیگانۂ رعنائی ہو
ترکشِ ناز میں کیا اور کوئی تیر نہیں
صبحِ بہار کے لیے شرطِ شب دراز ہے
حدودِ عشق میں داخل ہوا جب کارواں میرا
ہے کس کی آستین میں خنجر ، تلاش کر