جو بوند بوند کو ترسے خرد کے صحرا میں
جنوں سے ملتے تو دریا تلاش کر لیتے
معلیٰ
جنوں سے ملتے تو دریا تلاش کر لیتے
قاتل کو اپنا زخم دکھانے سے فائدہ
خرد ہے سنگ بداماں نہ جانے کب کیا ہو
مگر رہبر کی نیت ہی بدل جائے تو کیا کیجیے
اور اُس کو بانٹ دو لوگوں میں حوصلہ کر کے
سُن کے آئے تھے یہاں لعل و گُہر ملتے ہیں
رنج و الم کی سخت چٹانوں کو کیا کروں
اہلِ خرد سے کچھ نہ بنا ، تو پتھر لے کر دوڑ پڑے
کوہ سے نیچے اتر آئے ، تو پیغمبر لگے
یوں تو ہونے کو یہاں اہلِ قلم اتنے ہیں