میں شگفتہ ہوں بہت اب بھی سرِ شاخِ صلیب
سنگ ساروں سے کہو ، مشقِ ستم فرمائیں
معلیٰ
سنگ ساروں سے کہو ، مشقِ ستم فرمائیں
گلشن کی موجِ رنگ بھی ، صحرا کی گرد بھی
اِس کو اوڑھیں کہ بچھائیں یارو !
دنیا نے ہر حسابِ الم ، بیش و کم لیا
خانہ ویرانی کا عالم ، گھر میں تھا
ڈھونڈ لو اب نیا خدا کوئی
پہچانیے کہ آدمی یہ کس صدی کا ہے
کہاں سے لاؤں زباں اُن سے گفتگو کے لیے
لیکن تلاش جس کی ہے وہ راہزن کہاں
جو سوچیے تو یہی آبروئے صحرا ہے