اک برق سی گری تھی ، اک حشر سا اٹھا تھا
ایسی ہی روشنی تھی جب میرا گھر جلا تھا
معلیٰ
ایسی ہی روشنی تھی جب میرا گھر جلا تھا
اک عمر سے بہتر ہے اک لمحۂ تنہائی
گستاخیٔ خرد کی سزا ہے تمام عمر
بیٹھیں کہاں کہ سایۂ دیوار بھی نہیں
ہر سمت نگاہوں کی زنجیر نظر آئی
گذری ہوئی حیات کے نقش و نگار کو
اپنے اسلاف کے قدموں کے نشاں ڈھونڈتا ہوں
احباب تو مزار کا پتھر بدل گئے
تیرا نعم البدل کوئی نہیں ہے
لیکن دل و نظر کو کشادہ بنائیے