اک میں اللہ دوجے میں ماں ہوتی ہے
دل کے تو یہ دو ہی خانے ہوتے ہیں
معلیٰ
دل کے تو یہ دو ہی خانے ہوتے ہیں
تمہارے ساتھ وہ ہنگامۂ بہار گیا
ہم نے کیا ہے عشق ، تماشا نہیں کیا
غمِ حیات کی ساری تھکن اتار گیا
ایمان بک بھی جائے تو پیسہ بنائیے
اک غم نصیب شخص کے دامن میں ڈال دے
کہ دکھ کسی کا ہو لگتا ہے ہو بہو میرا
ہمیں تو اوروں کے دکھ بھی نڈھال رکھتے ہیں
بڑی حیرت سے صورت تک رہا ہے آسماں میری
یہ سر جدا ہے جسم سے یا تم رقیب سے