نصیحت اپنی رہنے دے رہِ الفت میں اے ناصح
پڑی ہے تجھ کو سمجھانے کی اپنا دم نکلتا ہے
معلیٰ
پڑی ہے تجھ کو سمجھانے کی اپنا دم نکلتا ہے
دل کی فریاد دلربا نہ سنے
جس پہ سایہ ہے تیرے کوچے کی دیواروں کا
حشر سے پہلے ہی اک محشر بپا ہونے لگے
چیز رکھتا ہوں بھول جاتا ہوں
گلاب توڑ کے دُنیا کو شک میں ڈال دیا
دِیا جلانے کا مطلب ہے شام ہو چکی ہے
میں نے اک نام لکھا اور قلم توڑ دیا
زندگی لاحاصلی کی دھوپ میں سنولا گئی
ہمـــارے درمیــــاں شــاید زمانہ آ گیا ہے