رکھتا ہے ہمیشہ وہ مِری پیاس ادھوری
خــواہش کا کٹورا کبھی بھرنے نہیں دیتا
معلیٰ
خــواہش کا کٹورا کبھی بھرنے نہیں دیتا
اور اب چـــاروں طرفــــــــ فصــل ہے حیرانی کی
جـــــــو خــــــــــود باہَر نہیں آتا ، مجھے اندر بلاتا ہے
لیکن کِسی کو خـــــواب چُرانے نہیں دِیا
تو نے مجھ کو چھو لیا تو میں تِرا ہو جاؤں گا
دریا پہ ہونٹ رکّھے تو دریا تمــــام شد
بولی کہ اب وہ جھــــــانکنے والے نہیں رہے
کہ میرا آخری خط بھی جلا دیا تو نے
میں نے جس روز بھی پھولوں کی تلاشی لی ہے
لیکن کبھی کبھار تو گھر جانا چاہیے