بیٹھتا ہے ہمیشہ رندوں میں
کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے
معلیٰ
کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے
پہلو میں میرے آؤ تو کہہ دوں یہاں ہے اب
رہا ملال تو کوئی ملال ہی نہ رہا
سچ ہے بری بلا ہے غم دوریٔ وطن
پاؤں پھیلائے ہیں چادر دیکھ کر
ملا جواب ہمیشہ رہے خدا کا نام
الفاظ نے پہن لیے معنی نئے نئے
پیشِ نگاہ جیسے کوئی آئینہ نہ ہو
رکھا ہے میں نے گھر کا دریچہ کُھلا ہوا
رازؔ ! کن یاروں کے مابین کھڑا ہوں ، میں بھی