پہلے تو راکھ ہو گئی چـــــوپال گاؤں کی
پھر یوں ہوا کہ لوگ کہانی سے ڈر گئے
معلیٰ
پھر یوں ہوا کہ لوگ کہانی سے ڈر گئے
اور اُس پھول سے آنے لگی مہکار مجھے
میں اِک نگینہ ہوں اور آنکھ میں جَڑا ہوا ہوں
لوگوں کو اُن کے خواب جگا کر دیئے گئے
کیا تجھے ڈر نہيں لگا مجھ سے
میں سانس لیتی ہوئی زندگی کا آدمی ہوں
تڑپ بڑھ کر میری وجہِ سکون دل نہ بن جائے
شیداؔ یہ اور بات ہے میں بے نیاز ہوں
آشیاں اور بنا لیں گے عنادل کی طرح
جہاں والے اسی کو کاوشِ پیہم بھی کہتے ہیں