خودی کے جذبۂ معصوم کو نہ ٹھیس لگا
ہمارا فقر کہاں ، تیرا التفات کہاں
معلیٰ
ہمارا فقر کہاں ، تیرا التفات کہاں
بغیر دیدۂ بینا کہیں خدا نہ ملا
پانی کی جستجو ہے تجھے ریگزار میں
جہاں تھک کے پاؤں ٹھہرے گیا سر کے بل وہاں سے
یہ سیکڑوں فریب تو کھائے ہوئے ہیں لوگ
شیشہ جو ٹوٹ جائے تو جڑنا محال ہے
آگ لگ جائے نہ دامن کو ، بچائے رکھنا
تمہیں بھی لگ گئی آخر ہوا زمانے کی
جلاؤ دل کہ ضرورت ہے دل جلانے کی
پوچھو تو بہت ٹھہری سی اِک نوحہ گری ہے