دن کڑی دھوپ میں کٹ جائے گا تنہاؔ یوں بھی
وعدۂ یار کی یہ رات بِتا لی جائے
معلیٰ
وعدۂ یار کی یہ رات بِتا لی جائے
گذرے ہو تم بھی شوق کے صحرا سے کیا میاں
کڑوا ہی نہ میٹھا رس گھولا ہی نہیں کوئی
جیسی مجھے بھرنی پڑی کرنی تو نہیں تھی
اک اور زاوئیے سے آسمان لگتا ہے
نشانی میں وہ آنکھوں سے تکلم کا ہنر دے گا
میں نے خود کو بھولنے میں ہنر ور کر لیا
نوح کے پسر لاکھوں ، ایک خاکداں اپنا
میرا دمساز ہی آخر مرا قاتل ٹھہرا
مل جائے میرا چاند ہے وہ چاندنی کہاں