موسم وہی فضا وہی کہسار بھی وہی
اے کاش مل سکے نگہِ یار بھی وہی
معلیٰ
اے کاش مل سکے نگہِ یار بھی وہی
سامانِ وحشتِ دلِ بیتاب آ ہی گیا
یہ نہ حاصل ہو تو بیکار ہے دنیا ہو کہ دیں
قوتیں اور بھی ہیں دولت و ثروت کے سوا
بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے جاتے ہیں
اشک سے سبزہ یہ صحرا نہیں ہوتا کہ نہ ہو
کھلی جو آنکھ تو پہلی نظر اُسی سے ملی
بہہ گیا تو اشک ٹھہرا جم گیا تو دل ہوا
غرض اب اٹھ نہیں سکتی ، جہاں رکھدی وہاں رکھدی
اُٹھے جاتے ہیں وہ بھی جو یہاں دو چار بیٹھے ہیں