لائے ہو جنازہ تو مجھے دفن بھی کر دو
اٹھے ہیں جہاں چار قدم ایک قدم اور
معلیٰ
اٹھے ہیں جہاں چار قدم ایک قدم اور
مگر مجھ کو قریبِ آشیاں معلوم ہوتی ہے
سوز ہے مظلوم کا ، ظالم کا سازِ زندگی
یہی اچھے برے دو چار ہیں احسنؔ کے یاروں میں
جب سر نہ کٹ سکا تو خود دل میں کٹ گیا
مگر جوہر یہ تیغِ ابروئے خمدار میں دیکھا
ہر چند چڑایا کئے منہ تیرے دہن کا
اس عشقِ بد انجام نے رکھا نہ کہیں کا
کوئی بے مطلب آشنا نہ ہوا
نہ کیوں کر میرے مرنے پر وہ ظالم شادماں ہوتا