ہلال و آسماں ہیں جامۂ وحشت کے دو ٹکڑے
کوئی خاکہ ہے دامن کا ، کوئی نقشہ گریباں کا
معلیٰ
کوئی خاکہ ہے دامن کا ، کوئی نقشہ گریباں کا
یہ مصرفِ خیرات سمجھ میں نہیں آتا
تمہیں میری قسم اٹھنا ، ذرا تم بھی سنور جانا
مگر الفت تری اے دشمنِ جانی نہیں جاتی
کہ سجدوں کو جبیں کہیے ، جبیں کو آستاں کہیے
ہم لوگ جو ذکر رسن و دار نہ کرتے
جوں جوں غزل میں تیرے حوالے سے بات کی
لیکن جو لطف کیفیت لب بہ لب میں ہے
جان کر شعلۂ گل بھر لیے دامن میں چراغ
تم سے کُھل کر مقابلہ ہو گا