سنگ زن ہم پہ وہی طفل ہیں شوکتؔ جو کبھی
ہم سے لیتے تھے سبق چاک گریبانی کا
معلیٰ
ہم سے لیتے تھے سبق چاک گریبانی کا
اے دل معاملہ ترا اب آشنا سے ہے
جب زیر کر سکے نہ ہمیں دشمنی سے لوگ
شہروں میں بہت کم ہمیں انساں نظر آئے
دو اک دیے تھے شہر میں وہ بھی بجھا دئیے
لو نام کہ وہ شخص بھی عریاں نظر آئے
وطن کو بیچ کے خوش ہے بڑی کمائی کی
ان مہوشوں کے پاؤں میں زنجیر چاہیے
اِسے کچھ اور بڑھایا کنارے والوں نے
مرا وجود ہی شاید بچھڑ گیا مجھ سے