چیخوں کہ چپ رہوں کہ پکاروں لہو لہو
اے شہر کیا ہوئی ، تری مٹی کی آبرو
معلیٰ
اے شہر کیا ہوئی ، تری مٹی کی آبرو
روح کی آگ دبی تھی اسی پتھر میں کہیں
ساتھ جائے گی وہاں بھی شبِ فرقت میری
کام نکلا کبھی اپنے سے نہ بیگانے سے
درد و غم نے دی تسلی ، ہیں ترے غمخوار ہم
ہے ابرِ سیاہ ماہِ پُر انوار کے نیچے
صورت نکال جا کے کہیں روزگار کی
پھر آج ان آنکھوں کو وضو کرنا ہے
اے آفتاب ! تیری تمازت کو کیا ہوا
گر کر بھی پر شکستوں کی ہمت نہ کم ہوئی