میں اپنی تلاش میں رواں ہوں
اے میرے وجود میں کہاں ہوں
معلیٰ
اے میرے وجود میں کہاں ہوں
مجھ کو ناکردہ گناہی کی قسم
تم خود کو بدل کر دیکھو تو حالات بدلتے جائیں گے
اور ظاہر میں کوئی بات اِدھر ہے نہ اُدھر
ننگِ برہنگی سے کفن پوش ہو گئے
اور سازِ شکستہ کی نوا اور ہی کچھ ہے
بہت احساس ہے تاہم نہیں ہے
تیرے لیے کہیں گے اگر بات ہو گئی
کیسے کیسے فریب دیتا ہے
جہاں زمان و مکاں ساتھ ساتھ بہتے ہیں