آشیاں کا ماتم کیا ؟ کوئی یہ تو بتلا دے
بجلیوں پہ کیا گذری میرے آشیانے سے
معلیٰ
بجلیوں پہ کیا گذری میرے آشیانے سے
کچھ اسباب فراہم نہیں ہونے پاتے
یہ بھی قمار خانہ ، وہ بھی قمار خانہ
منزل کو گردِ راہِ سفر دیکھتا ہوں میں
کیا وہ بھی اسی صورت ہم کو اے جلوۂ جاناں دیکھیں گے
وہ دنیا ہم نے دیکھی تو مگر کچھ سرسری دیکھی
ان کا دامن بن گیا میرا گریباں ہو گیا
نگارِ صبح کو اب اذنِ رونمائی دے
جرم کا ہر اک نشاں قاتل کے گھر تک جائے گا
کون گاؤں سے ترے شہر میں آ کر خوش ہے