بھائی ! دنیا میں کبھی کچھ بے سبب ہوتا نہیں
کوئی غم تو ہے اُسے جو رات بھر سوتا نہیں
معلیٰ
کوئی غم تو ہے اُسے جو رات بھر سوتا نہیں
اور کس کے بس میں یوں جاں سے گزرنا ، کھیلنا
کہ تجھ کو کھو کے میں کتنے بڑے عذاب میں ہوں
زنداں میں بھی نقش و نگار
غم کے پروردگار ہیں ہم لوگ
جس سے لوگ اجالا مانگنے جاتے ہیں
جیون بھر کوئی نہ کوئی ساتھ مرے جھنکار رہی
وہ صبحِ چھوڑ گیا رات بھر رلا کے مجھے مجھے بھی اس کے بچھڑنے کا رنج تھا لیکن وہ ہاتھ ملتا رہا عمر بھر گنوا کے مجھے چلے تو آگ لگائے رکے تو سانس رکے ہیں ظلم یاد تیرے شہر کی ہوا کے مجھے اگر میں پھول نہ تھا سنگ راہ بھی تو نہ تھا […]
اور جو یہ بھی نگہ شوق کا دھوکہ نکلا
ذرے خراج لینے لگیں مہر و ماہ سے