ہاتھ آ گیا ہے جام تو دستِ رسا پہ ناز
محروم رہ گئے تو لکھا تھا نصیب میں
معلیٰ
محروم رہ گئے تو لکھا تھا نصیب میں
ہم ایک دوسرے کا سہارا لیے ہوئے
میرا کیا جُرم ہے آخر مجھے معلوم تو ہو
ہنستا رہا کوئی پسِ دیوارِ آرزو
دے دیا دنیا کو ہم نے آئینہ خانے کا نام
آج معلوم ہوئی وقت کی رفتار مجھے
ترے اصولوں کو توڑتے ہیں
پھرتا ہوں اپنے دل میں لیے خواہشیں بہت
جس تشنہ لب کا حق ہے اِسی کو یہ جام دو
کھینچ کر اک نقش اس پر سر جھکا دیتا ہوں میں