میری ساحل کو ضرورت ہے تو خود زحمت کرے
میں تو اک تنکا ہوں طوفانِ بلا کی راہ میں
معلیٰ
میں تو اک تنکا ہوں طوفانِ بلا کی راہ میں
کیا ہمارے پاس ہے ، کیا دیں خدا کی راہ میں
دامن ہے تو دونوں سے ہمیں کام رہے گا
جب کوئی ہم سا تمہارے آستاں تک آ گیا
تاروں کے دھڑکنے کی صدا گونج رہی ہے
آنکھ اٹھا کر دیکھیے تو آسماں ہے سامنے
بحر سے پوچھئیے دریا کی ضرورت کیا ہے
شورشؔ خدا کا شکر ہے رہبر نہیں ہوں میں
بدن ہے راکھ مگر دوستی ہوا سے ہے
اُس دولتِ جنوں کو سنبھالے ہوئے ہیں ہم