زر پرستوں کو ہے انکار ، تو انکار کریں
میرا ایماں ہے غریبوں کا خدا آج بھی ہے
معلیٰ
میرا ایماں ہے غریبوں کا خدا آج بھی ہے
کیا یقیں اب نجات میں رکھنا
وہ میرے ہاتھوں میں کچھ پھول دیکھتا ہے ابھی
قفس میں خوش ہیں جو ان پر نئے عذاب نہ بھیج
باپ کو بچے کا دل آخر مسلنا ہی پڑا
کھلے نہ حال مرے آنسوؤں کے بہنے کا
صحنِ گلشن میں ہی نغماتِ عنادل ڈوبے
چلیے لیکن ساتھ جہاں تک جا سکتے ہیں
سامنے اُس کے میرا نام تو لے کر دیکھو
اب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئی