شرابِ ارغواں کیا پی کہ میرا کُل جہاں بدلا
نظر آتا ہے اب رنگِ زمین و آسماں بدلا
معلیٰ
نظر آتا ہے اب رنگِ زمین و آسماں بدلا
مجھے میرا رب ہے کافی مجھے کُل جہاں نہ پوچھے
کسی کی طبعِ نازک پر گراں معلوم ہوتا ہوں
کیا جنوں میں ابھی آمیزشِ دانائی ہے ؟
اور اب جو پہلو کو دیکھتا ہوں تو دل نہیں ہے ، جگر نہیں ہے
منکشف جس پر حقیقت ہو گئی
مقامِ ادب ہے مقامِ محبت
دیتے ہیں کسی ہستیٔ مطلق کی خبر ہم
ترے دستِ کرم میں جب کبھی پیمانہ ہوتا ہے
کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہو جائے