جب مہر نمایاں ہوا سب چھپ گئے تارے
تو مجھ کو بھری بزم میں تنہا نظر آیا
معلیٰ
تو مجھ کو بھری بزم میں تنہا نظر آیا
تب کہیں جا کے ترے دل میں جگہ پائی ہے
کارواں ایسے بھی دیکھے جو ہوئے راہ کی دھول
ہم کبھی بھی نہ رہے عالمِ تنہائی میں
جو سایہ پھیلا ہوا ہے سمٹ بھی سکتا ہے
ہیں کتنے فسانے مرے اظہار کے پیچھے
دِیر کہتے ہیں کسے اور ہے کعبہ کیسا
دیکھنا تھا جس کو وہ دیکھا نہیں
پروردگار تجھ میں جو بخشش کی خُو نہ ہو
ساتھی وہ میرا برسوں سے ہر راستے کا تھا