اٹھی نہیں کہیں سے شہادت کی انگلیاں
قاتل کا یہ کمال و ہنر دیکھتے رہے
معلیٰ
قاتل کا یہ کمال و ہنر دیکھتے رہے
جب عرش پر فرشتوں نے سجدہ کیا مجھے
بجلی گری تڑپ کے دلِ بیقرار پر
پشت پر میرے گناہوں کے ہے رحمت اس کی
اب کہاں لے کے مجھے جائے گی وحشت میری
کہتا ہے شیخ ، دارِ فنا میں حرام ہے
قصہ لکھا تھا میرے اور ان کے شباب کا
دامن اُلجھ گیا ہے یہاں خارزار میں
ٹھہری ہوئی ہے روح تیرے انتظار میں
بڑھ کے یہ قطرۂ خوں مہرِ درخشاں ہو جائے