ہے گورِ غریباں میں وہی شمسؔ کا مدفن
تربت جو کوئی دل کے دھڑکنے کی صدا دے
معلیٰ
تربت جو کوئی دل کے دھڑکنے کی صدا دے
کیا دم بھی توڑنے کے وہ قابل نہیں رہا
ازل سے محو ہوں جس کے جمال حیرت افزا کا
میرے تیور دیکھ کر وہ مجھ سے بدظن ہو گیا
نالہ پر شور سے ہے میرے گھر گھر رت جگا
جام مئے سورج بنا مہتاب مینا بن گیا
دیکھنا تم دیکھنا مت انجمن میں آئینہ
قصور اپنی نگاہ کا ہے وگرنہ کب وہ حجاب میں ہے
کچھ نہ کچھ بات رقیبوں نے بنائی ہو گی
رنگ شاہد ہے شکست توبہ کی آواز کا