جب سے پایا دشمنوں نے پاؤں کا میرے سراغ
سر کے بل جاتا ہوں تب سے کوئے جاناں کی طرف
معلیٰ
سر کے بل جاتا ہوں تب سے کوئے جاناں کی طرف
سو گالیاں ہمیشہ سنیں اک دعا کے ساتھ
مصر میں جیسے غبارِ کارواں پھرنے لگے
ڈر نہیں ہم سے اگر اب آسماں پھرنے لگے
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے
تو بھی تو کبھی پھول چڑھانے کے لیے آ
جس سے لگے نہ ٹھیس مرے اعتبار کو
مگر وہ جام میں دیکھو اُتر گیا یارو
لُطف سارا زندگی کا سعیِ لاحاصل میں ہے
میرے ہونٹوں پہ رہتا ہے سدا جاناں جاناں