شبنم کے چند قطروں کو پھولوں سے چھین کر
کیا مل گیا ہے پوچھے کوئی آفتاب سے
معلیٰ
کیا مل گیا ہے پوچھے کوئی آفتاب سے
سب دیے بجھ جائیں گے ، دل کا دیا رہ جائے گا
کھیل یہ اچھا نہیں ہے دیکھ پروانوں کے ساتھ
غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے
ہمارا جام سفر میں رہے تو اچھا ہے
تتلیاں بھاگ کے ہاتھوں میں پکڑنے والے
وہ کون ہیں پھولوں کے جنہیں ہار ملے ہیں
وہ شخص دیدۂ تر میں رہے تو اچھا ہے
تم کو جنت کا وہاں سے راستہ مل جائے گا
ہو گی نہ تجھ سے پھر ترے ایماں کی احتیاط