یہ ہر ایک موج کی خواہشیں ، یہ کنارے آنے کی اک لگن
یہ وہی رفیق کہیں نہ ہوں کہ جو صدیوں پہلے بچھڑ گئے
معلیٰ
یہ وہی رفیق کہیں نہ ہوں کہ جو صدیوں پہلے بچھڑ گئے
کہ دنیا کی بھی کچھ سُن لے اگر دنیا میں رہنا ہے
نظریں ملی ہیں ایک زلیخا نگاہ سے
یہ کس نے کہہ دیا ہم زیست سے بیزار بیٹھے ہیں
یہ حادثہ ہے کہ ہم اختصار کرتے رہے
آپ دھوکا مجھے دیں اور میں دھوکا نہ کہوں
میری تصویر بنائیں شاید
ہم وہ کہ ہم کو ساری خدائی کی فکر ہے
میری سانسیں بھی مہکتی ہیں گلابوں کی طرح
یہ مفت کا تحفہ ہے، بچوں کو دعا کہنا