ائے جذبۂ خود داری جھکنے نہ دیا تو نے
لکھنے کے لیے ورنہ سونے کے قلم آتے
معلیٰ
لکھنے کے لیے ورنہ سونے کے قلم آتے
موسم کی سیڑھیوں سے جو پتہ اتر گیا
بھٹکنے کو ہم کارواں چھوڑ آئے
مرا نام تھا جہاں ریت پر تری انگلیوں سے لکھا ہوا
تیرا خیال ہم کو جگائے گا آ کے جب زانوئے آرزو پہ سلا دے گی چاندنی
اک ضربِ ید اللّٰہی، اک سجدۂ شبیری
کُوچے سے ترے ہم سے تو جایا نہیں جاتا
دن ہوتے ہوئے دھوپ نکلنے نہیں دیتے
میں بھی اُن کا دوست تھا وہ بھی مرے احباب تھے
جیسے یہاں کسی کو کوئی جانتا نہ ہو